حیدرآباد،23؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) اے پی کے دارالحکومت امراوتی کے تحفظ کے لئے احتجاج 250 ویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ اس احتجاج میں کسانوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے۔ اس موقع پر راجدھانی رن بھیری کے نام سے احتجاجی پروگرام مندڈم، تُلورو، ویلگاپوڑی، دونڈاپاڈو علاقہ میں منعقد کئے گئے جس میں کسانوں اور خواتین کے ساتھ ساتھ مختلف جماعتوں کے لیڈروں، عوامی تنظیموں کے نمائندوں اور دیگر کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔
خواتین نے سڑکوں پر مُگو ڈالا اور اپنے ہاتھوں میں برتن لے کر ان برتنوں کو بجایا۔ انہوں نے امراوتی بچاو اے پی بچاو کے نعرے بھی لگائے۔ ساتھ ہی خواتین کے ایک گروپ نے سلائی مشینوں پر کپڑے سیتے ہوئے بھی اپنا انوکھا احتجاج درج کروایا۔ بعض خواتین نے سڑک پر نکل کر باجہ بھی بجایا۔ ان افراد کی حمایت میں ریاست کی اصل اپوزیشن جماعت تلگودیشم کے لیڈروں نے بھوک ہڑتال کی۔
گنٹور کے ونستھلی پورم میں سابق وزیر این آنند بابو، رکن کونسل راما کرشنا نے بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے آنند بابو نے کہا کہ اس احتجاج کے 250دن ہونے کے باوجود حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، ریاست کے دارالحکومت امراوتی پر دوہرا موقف رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر حکومت امراوتی پر اپنے فیصلہ کو واپس نہیں لے گی تو تحریک میں شدت پیدا کی جائے گی۔